بلاگ پر واپس

کیلوریز کم کرتے ہوئے ڈائٹ آسان بنانے کے 5 طریقے

بھوک سنبھالنے اور جسم کی چربی کم کرنے میں مدد دینے والی آسان عادتیں۔

کیلوری ڈیفیسٹ کا مطلب ہے کہ وقت کے ساتھ آپ کھانے سے جتنی توانائی لیتے ہیں، جسم اس سے زیادہ خرچ کرتا ہے۔ اسے برقرار رکھنا تب آسان ہوتا ہے جب آپ کے کھانے پینے کی عادتیں روزمرہ کے معمول کے مطابق ہوں۔

1. پہلے سمجھیں کہ بھوک کیوں لگ رہی ہے

ڈائٹ کے دوران کبھی کبھی تھوڑی بھوک لگ سکتی ہے۔ لیکن زیادہ بھوک برداشت کرنا کوئی کامیابی نہیں، نہ ہی یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ چربی کم ہو رہی ہے۔ کچھ کھانے کا اچانک دل کرے تو پہلے خود سے پوچھیں: آخری بار کب کھایا تھا؟ واقعی بھوک ہے، بوریت ہے، ذہنی دباؤ ہے یا سامنے کھانا دیکھ کر دل کر رہا ہے؟ ایک سے زیادہ وجہ بھی ہو سکتی ہے۔

آج یہ کر کے دیکھیں: سمجھ نہ آئے تو ایک گلاس پانی پی کر چند منٹ رکیں اور دیکھیں کہ کیا یہ احساس خود ہی کم ہو جاتا ہے۔ پھر بھی بھوک ہو تو کھانا یا کوئی ہلکا پھلکا ناشتہ کھا لیں۔ اگر مسلسل بھوک لگتی ہے یا دھیان نہیں لگ پاتا، تو مزید برداشت کرنے کے بجائے کیلوریز کا فرق کچھ کم کریں، یعنی تھوڑا زیادہ کھائیں۔

2. ایسا کھانا چنیں جس سے پیٹ بھرے

پروٹین والی غذاؤں اور اپنی پسند کے کھانوں کے ساتھ سبزیاں، پھل اور شوربے والے ہلکے سوپ شامل کریں۔ اس سے کھانے کی مقدار بڑھتی ہے۔ ایک سال کی ایک تحقیق میں جن خواتین کو زیادہ پانی والی غذائیں کھانے کا مشورہ دیا گیا، انہوں نے ان خواتین کے مقابلے میں کم بھوک محسوس کرنے کی بات کی جنہیں صرف کھانے میں چکنائی کم کرنے کا کہا گیا تھا۔ تحقیق پڑھیں۔

آج یہ کر کے دیکھیں: دوپہر کے کھانے میں مرغی، ٹوفو یا لوبیا کے ساتھ اچھی مقدار میں سبزیاں اور کچھ چاول یا آلو رکھیں۔ تیل اور سلاد کی ڈریسنگ جیسی چیزیں ناپ کر لیں، کیونکہ تھوڑی سی مقدار میں بھی کافی کیلوریز ہوتی ہیں۔ کھانے کی مقدار بڑھاتے وقت اپنے غذائی منصوبے کا خیال رکھیں۔

3. بھوک لگنے سے پہلے فیصلہ کر لیں

چند آسان کھانے طے رکھیں جو بار بار بنائے جا سکیں، اور مصروف دنوں کے لیے کوئی جلدی تیار ہونے والا متبادل بھی رکھیں۔ یوں تھکن یا جلدی میں کھانے کے بارے میں کم فیصلے کرنے پڑیں گے۔

آج یہ کر کے دیکھیں: کل کا ناشتہ، دوپہر کا کھانا اور ایک ہلکی پھلکی چیز آج ہی طے کر لیں۔ سامان ایسی جگہ رکھیں جہاں نظر آئے۔ فریزر کی سبزیاں، جلدی تیار ہونے والے چاول اور پہلے سے پکا ہوا لوبیا کام آ سکتا ہے۔ اگر آپ کھانے کا ریکارڈ رکھتے ہیں تو یہ کھانے پہلے ہی لکھ لیں۔

4. جو منصوبے کے مطابق نہ ہو، اس سے سیکھیں

ڈائٹ پر چلنا بھی مشق سے آتا ہے۔ کسی ایک وقت ہدف سے زیادہ کھا لینا یہ سمجھنے کا موقع ہے کہ منصوبے میں کیا بدلنا چاہیے۔ مثلاً دوپہر کا کھانا چھوڑنا اس بات کی وجہ ہو سکتا ہے کہ شام کو بھوک سنبھالنا مشکل لگتا ہے۔

آج یہ کر کے دیکھیں: وجہ اور ایک تبدیلی لکھیں: «گھر پہنچتے ہی بہت تیز بھوک لگی تھی، اس لیے اب دوپہر کے بعد کھانے کے لیے کوئی ہلکی پھلکی چیز ساتھ رکھوں گا۔» اگلے کھانے سے اپنے معمول کے منصوبے پر واپس آ جائیں۔ بھرپائی کے لیے کھانا چھوڑنے یا خود کو سزا دینے کی طرح زیادہ ورزش کرنے سے بچیں۔

5. ضرورت ہو تو وزن برقرار رکھنے کے لیے وقفہ لیں

پہلے سے طے وقفے میں آپ تقریباً اتنی کیلوریز لیتے ہیں جن سے وزن لگ بھگ ایک جیسا رہے۔ اس سے کھانا محدود رکھنے کے دباؤ میں کچھ کمی آ سکتی ہے۔ MATADOR تحقیق میں موٹاپے کا سامنا کرنے والے مردوں کو باری باری دو ہفتے کیلوریز کم اور دو ہفتے وزن برقرار رکھنے جتنا کھانا دینے سے فائدے ملے۔ لیکن بعد کی ایک تحقیق میں ویٹ ٹریننگ کرنے والی خواتین میں چربی کم ہونے یا آرام کے وقت جسم کی توانائی کی کھپت میں کوئی اضافی فائدہ نہیں ملا۔ نتائج سب کے لیے ایک جیسے نہیں ہوتے۔ MATADOR تحقیق؛ 2023 کی تحقیق۔

اس ہفتے یہ کر کے دیکھیں: اپنے منصوبے پر دوبارہ غور کرنے کی تاریخ طے کریں۔ اگر ڈائٹ کی تھکن بڑھ رہی ہے تو کھانے کا معمول برقرار رکھتے ہوئے ایک یا دو ہفتے وزن قائم رکھنے کے لیے درکار اندازاً کیلوریز لینے پر غور کریں۔ تھکن اترنے میں زیادہ وقت بھی لگ سکتا ہے۔ وقفے سے ہدف تک پہنچنے کا وقت بڑھتا ہے اور میٹابولزم یا ہارمونز کے «ری سیٹ» ہونے کی ضمانت نہیں ہوتی۔

ایک اور مشورہ: کچھ کھانے کا دل کرے تو تھوڑا رکیں

اگر بھوک نہیں، بس کسی خاص چیز کا دل کر رہا ہے، تو تھوڑی دیر کسی اور کام میں لگیں اور پھر فیصلہ کریں۔ تب بھی دل چاہے تو تھوڑی سی مقدار لے کر مزے سے کھائیں اور اپنا دن معمول کے مطابق جاری رکھیں۔ پسند کے کھانوں کے لیے بھی گنجائش رکھیں۔

ایک چھوٹے قدم سے شروع کریں: اگلے سات دن کے لیے ایک طریقہ چنیں۔ Shape Journey یا کسی کاپی میں لکھیں کہ بھوک اور توانائی کیسی رہی اور کس چیز سے کھانے کا معمول آسان ہوا۔ پھر ایک وقت میں ایک تبدیلی کریں۔

یہ بھی پڑھیں: کھانے کی ان عادتوں کو کیسے پہچانیں جو نظر نہیں آتیں اور روز مناسب مقدار میں پروٹین لینے کی عادت کیسے بنائیں۔